پیغامِ امن کمیٹی کی قومی یانیے کے فروغ کیلئے پاک فوج سے مکمل تعاون کی یقین دہانی
قومی بیانیے کی تشکیل کے لیے قائم قومی پیغام امن کمیٹی (این پی اے سی) نے جی ایچ کیو میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات کی اور قومی بیانیے کے فروغ کیلئے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ملاقات میں پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، این پی اے سی نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملاقات میں فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگو ہوئی اور مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا، کشمیر اور غزہ پر اصولی مؤقف کی توثیق، مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
این پی اے سی نے منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان کیا اور نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کے لیے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہے جس کی ترویج کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی و رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز ہے۔
ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی گئی۔
ملاقات میں پاک افواج سے غیر متزلزل یکجہتی اور ریاست دشمن بیانیوں کے خلاف مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا، این پی اے سی نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ملاقات میں فتنہ الخوارج/ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں داخلی سلامتی پر جامع گفتگو ہوئی اور مشترکہ مؤقف مزید مضبوط ہوا، کشمیر اور غزہ پر اصولی مؤقف کی توثیق، مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔
این پی اے سی نے منبر و محراب سے اتحادِ امت، سماجی ہم آہنگی اور آئینی برابری کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان کیا اور نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کے لیے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہے جس کی ترویج کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی و رہنمائی نشستیں بڑھانے کی تجویز ہے۔
ملاقات کو غیر معمولی طور پر مفید قرار دیتے ہوئے اعتماد اور عملی تعاون کے نئے راستوں پر پیش رفت کی توقع ظاہر کی گئی۔
اپنی رائے دیں:
تازہ ترین تبصرے
ابھی تک کوئی تبصرہ موجود نہیں۔ پہلا تبصرہ کریں!